نہ فریب دے کسی کو نہ وہ خود فریب کھائے

نہ فریب دے کسی کو نہ وہ خود فریب کھائے
جو خدا سے ملنا چاہے درِ مصطفیٰؐ پہ آئے

میں نے ذکرِ مصطفیٰؐ سے در و بام تو سجائے
مرے دل سے ظلمتوں کے کبھی چھٹ سکے نہ سائے

کسی طرح قبلِ محشر مری آنکھ کھل نہ پائے
درِ مصطفیٰؐ پہ جاکر مجھے ایسی نیند آئے

وہ حبیبِؐ ربِّ داور، وہ خلوص کا سمندر
کبھی مشکلوں سے گزرے کبھی خون میں نہائے

جنہیں کر گئی ہے روشن مرے مصطفیٰؐ کی سیرت
کسی سر پھری ہوا سے وہ چراغ بجھ نہ پائے

یہ خدا کی ہے عنایت یہ کرم ہے مصطفیٰؐ کا
نہ ہوئے نہ ختم ہوں گے کبھی رحمتوں کے سائے

جنہیں کہیے چاند سورج یہ اسی کے نقشِ پا ہیں
جو زمیں پہ پاؤں رکھے اسے آسماں بنائے

بڑی آرزو لے کر میں چلا ہوں سوئے طیبہ
جسے دیکھنی ہو جنت مرے ساتھ ساتھ آئے

مری زیست کو سجایا مجھے قہر سے بچایا
یہ کرم ہیں مصطفیٰؐ کے کوئی کیسے بھول جائے

یہ کرم نہیں تو کیا ہے مرے مصطفیٰؐ کا اعجازؔ
تھے جہاں غموں کے کانٹے وہاں پھول مسکرائے