یا رب یہ التجا، یہ دعا ہو میری قبول

یا رب یہ التجا، یہ دعا ہو میری قبول
آنکھوں سے اپنی دیکھ لوں میں روضۂ رسول

جب تک ہوں دور گنبدِ خضرا کے سائے سے
جینا مرا فضول ہے، مرنا مرا فضول

بے تاب ہوں میں کب سے مدینے کے واسطے
یا رب معاف کر دے اگر ہوگئی ہو بھول

اک روز تو نصیب مرا جگمگائے گا
طیبہ کے راستوں کی میسر ہو مجھ کو دھول

یا رب ترے کرم کا میں امیدوار ہوں
ہو جائے مجھ پہ بھی تری رحمت کا اب نزول

دنیا میں اور کوئی سکوں کی جگہ نہیں
طیبہ میں جاکے پائے گا راحت دلِ ملول

اعجازؔ چاہیے مجھ اذنِ درِ حضورؐ
کرنے ہیں پیش مجھ کو بھی جاکر سخن کے پھول