یہ اعتراف ہے مجھ کو گناہگار ہوں میں

یہ اعتراف ہے مجھ کو گناہگار ہوں میں
مگر حضورؐ معافی کا خواستگار ہوں میں

ہوائے باغِ مدینہ ترے کرم کے نثار
خزاں کے دور میں آسودۂ بہار میں ہوں

نہ جانے کب ہو مدینے میں حاضری میری
اس آرزو میں بہت دن سے بے قرار ہوں میں

حضور قدموں میں اپنی مجھے جگہ دے دیں
کوئی دیار نہیں میرا بے دیار ہوں میں

حضورؐ آپ مرا حشر میں بھرم رکھ لیں
کہ آج اپنی خطاؤں پہ شرمسار ہوں میں

حضورؐ آپ نے ہر گام رہنمائی کی
تباہیوں کا مگر خود ہی ذمہ دار ہوں میں

امیدوارِ کرم میں بھی ہوں سرِ محشر
کہ آج اپنے گناہوں پہ شرمسار ہوں میں

گواہی قول و عمل کی بہت ضروری ہے
زباں سے کہتا رہوں لاکھ جانثار ہوں میں

ثنائے سرورِؐ عالم کا دیکھیے اعجازؔ
کہ رحمتِ شہہِ والا سے ہمکنار ہوں میں