حق کی تبلیغ کا جس میں پہلو نہ ہو ایسے اعلان کو میں نہیں مانتا

حق کی تبلیغ کا جس میں پہلو نہ ہو ایسے اعلان کو میں نہیں مانتا
اسوۂ مصطفی سے گریزاں ہو جو اس مسلمان کو میں نہیں مانتا

جس پہ قرآن خالق نے نازل کیا سوئے رب جس نے انساں کو مائل کیا
اس نبیؐ کی جو عظمت کا قائل نہ ہو ایسے انسان کو میں نہیں مانتا

چھوڑ کر رب کادر اور جائے کہیں غیر کے درپہ جاکے جھکائے جبیں
منحرف ہو جو تعلیمِ سرکارؐ سے اس کے عرفان کو میں نہیں مانتا

سیرتِ مصطفیؐ جس کی رہبر نہ ہو سر پہ تاجِ غلامیِ سرورؐ نہ ہو
ایسے دھنوان کو، ایسے سلطان کو، اس کے فرمان کو میں نہیں مانتا

میں نے مانا کہ تو ہے بہت معتبر کوئی تجھ سا جہاں میں نہیں ہے مگر
سرورِ انبیاءؐ سے جو نسبت نہیں تیری پہچان کو میں نہیں مانتا

اس سے مانگو ہے داتا وہی معتبر وہ جو رہتا ہے شہ رگ سے نزدیک تر
جو نہ مانے یہ حکمِ شہہِؐ بحر و بر ایسے نادان کو میں نہیں مانتا

جس سے قائم دو عالم کا معیار ہے مصطفیٰؐ کا وہ دربار دربار ہے
جس کو قصرِ رسالت سے نسبت نہ ہو ایسے ایوان کو میں نہیں مانتا

روح سے ہے عبارت ہر اک زندگی آدمی کیا ہے کچھ بھی نہیں آدمی
جس میں روحِ شریعت نہ ہو جلوہ گرجسمِ بے جان کو میں نہیں مانتا

حمد بھی پڑھے نعت بھی جو پڑھے اور مدینے کی گلیوں میں کھویا رہے
جو زبانی محبت کے دعوے کرے اس ثنا خوان کو میں نہیں مانتا

روشنی کا ازل سے طلبگار ہوں کہ اعجازؔ مداّحِ سرکارؐ ہوں
کفر ہے میں زباں سے اگر یہ کہوں ان کے احسان کو میں نہیں مانتا