درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے

درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے
اسے یہ چاہیے پھر ذکرِ مصطفیؐ نہ کرے

چراغِ حبِّ نبیؐ کر کے دیکھیے روشن
مجال کیا ہے حفاظت جو پھر ہوا نہ کرے

زبان وہ کسی مومن کی ہو نہیں سکتی
خدا کا ذکر کرے، ذکرِ مصطفیؐ نہ کرے

درِ رسولؐ پہ آداب کا خیال رہے
یہاں زباں سے کوئی عرضِ مدّعا نہ کرے

دیا ہے درس یہ طائف میں سرورِ دیں نے
کسی کے حق میں کوئی شخص بددعا نہ کرے

اسے سکون کی منزل نہ مل سکے گی کبھی
جو اختیار شریعت کا راستا نہ کرے

شہہِؐ امم کی غلامی دلیلِ آزادی
غلام کیا جو غلامی کا حق ادا نہ کرے

عمل نہیں تو نہیں عشق معتبر اعجازؔ
کوئی ثنائے زبانی پر اکتفا نہ کرے