برائے حمدِ خدا ، ذکرِ مصطفی کے لیے

برائے حمدِ خدا، ذکرِ مصطفیٰؐ کے لیے
مرے زبان و قلم وقف ہیں ثنا کے لیے

دلوں سے دور اندھیرے نہ ہو سکیں گے کبھی
چراغِ حبِّ نبیؐ چاہیے ضیا کے لیے

خدا کی ذات تو ہے بے نیاز ہر شے سے
یہ کائنات بنائی ہے مصطفیؐ کے لیے

جو چاہتے ہو کہ مل جائے دولتِ عرفاں
درِ رسولؐ پہ دو حاضری خدا کے لیے

تمام عمر گزرتے رہے اذیت سے
نبیؐ نے ہاتھ اٹھائے نہ بددعا کے لیے

قدم قدم پہ نظر اسوۂ نبیؐ پہ رہے
یہ اہتمام ضروری ہے ارتقا کے لیے

مجھے یقین ہے کامل کہ زہرِ قاتل ہے
چراغِ ذکرِ نبیؐ کفر کی ہوا کے لیے

نبیؐ سے عشق تھا جن کو دیارِ ہستی میں
شہید ہو گئے اسلام کی بقا کے لیے

درود پہلے پڑھا ہے زبان سے اعجازؔ
اٹھائے ہاتھ کبھی میں نے جب دعا کے لیے