دیار سرورِ کونین کا فقیر ہوں میں

دیار سرورِ کونین کا فقیر ہوں میں
مجھے غریب نہ سمجھو بڑا امیر ہوں میں

یہاں سے جانے کو میرے قدم نہیں اٹھتے
کہ سرزمینِ مدینہ ترا اسیر ہوں میں

نبیؐ کے نقشِ کفِ پا سے جس کو نسبت ہے
وہ روشنی کی ابھرتی ہوئی لکیر ہوں میں

دیارِ سرورِؐ عالم سے جس کو نسبت ہے
وہی یہ بات کہے امن کا سفیر ہوں میں

وہ دل نواز زمیں ہے زمیں مدینے کی
ہر ایک ذرّہ یہ کہتا ہے دل پذیر ہوں میں

ترا وجود نہ مٹ جائے گردشِ دوراں
مجھے نہ چھیڑ مدینے کا راہگیر ہوں میں

بفیضِ سرورِؐ عالم شرف یہ حاصل ہے
کہ شر جہاں ہے وہاں امن کا سفیر ہوں میں

میری سرشت میں شامل ہے خاک طیبہ کی
میں وجہِ عالمِ امکاں ہوں ناگزیر ہوں میں

ملا ہے مدحتِ شاہِؐ امم سے یہ اعجازؔ
جو روشنی کی علامت ہے وہ ضمیر ہوں میں