درِ شاہِ امم تک آگیا ہوں

درِ شاہِ امم تک آگیا ہوں
حرم سے میں حرم تک آگیا ہوں

مسلسل بارشوں میں ہوں کرم کی
دبستانِ کرم تک آگیا ہوں

خدا کا شکر ہے میں چلتے چلتے
دریاِ محترم تک آگیا ہوں

جسے معراج میں چوما فلک نے
میں اس خاک قدم تک آگیا ہوں

بہت مسرور ہوں طیبہ میں آکر
حصارِ کیف و کم تک آگیا ہوں

ثنا کرتا ہے جس کی ربِّ اکبر
میں ایسے محترم تک آگیا ہوں

تجسّسِ مصطفیؐ کا کرتے کرتے
میں ہستی سے عدم تک آگیا ہوں

مدینہ مل گیا میری طلب کو
میں گلزار ارم تک آگیا ہوں

یہی اعجازؔ ہے اعجاز مدحت
زباں سے میں قلم تک آگیا ہوں