ذات رسول اکرمؐ میں اخلاق کے ایسے جوہر تھے

ذات رسول اکرمؐ میں اخلاق کے ایسے جوہر تھے
پھول دیے ہیں ان ہاتھوں میں جن ہاتھوں میں پتھر تھے

ذکر کے موتی رول رہی تھی کل شب دل کی دھڑکن بھی
دل سے آنکھوں تک جب آئے سارے آنسو گوہر تھے

کل جو دعا کو ہاتھ اٹھے تھے سنگ و خشت کی بارش میں
طائف کے منظر میں پنہاں کتنے حسیں پس منظر تھے

سو سو رمز نہاں تھے ان میں حکمت اور دانائی کے
جو بھی زبانِ پاک سے نکلے سارے لفظ سمندر تھے

آپ نے بخشا لب کو تبسم آنسو پونچھے آنکھوں سے
ان کا مداوا بھی فرمایا زخم جو دل کے اندر تھے

میری یہ کوتاہی اب تک ان پہ عمل میں نے نہ کیا
سرور عالمؐ قول بہت سے آپ کے مجھ کو ازبر تھے

آپؐ کا یہ کردار کہ جس کی ملتی نہیں دنیا میں مثال
ان کوبھی اخلاق سے مارا ہاتھ میں جن کے خنجر تھے

جنگِ احد میں دنداں توڑے، پتھر مارے طائف میں
آپؐ کے دور رحمت میں بھی کیسے کیسے ستمگر تھے

آپ نے دور عسرت میں بھی رد نہ کیا سائل کا سوال
سر سے پا تک سرورِ عالمؐ جود و سخا کے پیکر تھے

اپنوں پر تھی ان کی عنایت، غیروں پر تھے ان کے کرم
ان کے کرم کا کیا کہنا اعجازؔ وہ بندہ پرور تھے