انساں کی عظمتوں کا ہر امکان ختم ہے

انساں کی عظمتوں کا ہر امکان ختم ہے
حد تو یہ ہے رسولؐ پہ قرآن ختم ہے

کیا وسعتیں ہیں نام رسالت مآبؐ کی
جس پر یہ کائنات ہے قربان ختم ہے

نعمت کوئی بڑی نہیں ذاتِ حضورؐ سے
جس پر تمام رحمتِ رحمان ختم ہے

انسانیت کا حسن ہے اخلاق آپؐ کا
اچھائیوں کی آپؐ پہ پہچان ختم ہے

اب حشر تک کوئی بھی ہدایت نہ آئے گی
ختم المرسل پہ رب کا بھی فرمان ختم ہے

سرکارؐ خالی ہاتھ کھڑا ہوں میں حشر میں
بخشش کا میرے پاس تو سامان ختم ہے

اعجازؔ شک ہے جس کو ذرا بھی رسولؐ پر
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان ختم ہے