کیا سوئے عرش شاہِ ذی شان کا سفر ہے

کیا سوئے عرش شاہِ ذی شان کا سفر ہے
پہلا اور آخری یہ انسان کا سفر ہے

وحیِّ نزول رب ہے اور دل ہے مصطفیٰؐ کا
قرآن کی طرف ہی قرآن کا سفر ہے

احسان کے دریچے طیبہ ہی میں کھلیں گے
لوگو! یہ آگہی کا، عرفان کا سفر ہے

لے کر نویدِ رحمت سرکارؐ آ رہے ہیں
بندوں کی سمت رب کے احسان کا سفر ہے

طائف میں مصطفیٰؐ پر کیا کیا اذیتیں ہیں
دشوار کس قدر یہ ایمان کا سفر ہے

طیبہ کے راستوں پر ہے گامزن تصوّر
سرکارؐ کی طرف ہی وجدان کا سفر ہے

سرکارؐ دینِ حق کی ترسیل کر رہے ہیں
کیا کفر سے رکے گا طوفان کا سفر ہے

طیبہ کی سمت جانا ہے وجہِ کامرانی
ورنہ ہر اک سفر تو نقصان کا سفر ہے

طیبہ کی سمت میرے اشعار جا رہے ہیں
اعجازؔ مجھ سے پہلے سامان کا سفر ہے