جہاں جہاں بھی چراغ حیات روشن ہے

جہاں جہاں بھی چراغ حیات روشن ہے
حضورؐ آپ کی ایک ایک بات روشن ہے

وہ رات کاہکشاں سے ہے جس کی مانگ بھری
نبیؐ کے نقشِ قدم سے وہ رات روشن ہے

یہ کائنات بنائی گئی ہے جس کے لیے
اسی کے نور سے یہ کائنات روشن ہے

قیام غار حرا سے فرازِ عرش تلک
جہاں بھی دیکھیے آقاؐ کی ذات روشن ہے

پکارتا ہے کوئی اب بھی کوہِ فاراں سے
قدم بڑھاؤ کہ راہ نجات روشن ہے

خلیق بھی ہیں، امیں بھی ہیں اور صادق بھی
مرے رسولؐ کی ایک اک صفات روشن ہے

یہ معجزہ بھی ہے حبِّ رسولؐ کا اعجازؔ
چراغِ زندگی بے ثبات روشن ہے