گھبرا کے اندھیروں سے دعا مانگ رہے ہیں

گھبرا کے اندھیروں سے دعا مانگ رہے ہیں
خورشیدِ رسالت سے ضیا مانگ رہے ہیں

کچھ لوگ طلب سے بھی سوا مانگ رہے ہیں
اللہ سے محبوبؐ خدا مانگ رہے ہیں

تھے اطلس و کمخواب میں ملبوس جو کل تک
اب وہ بھی شریعت کی قبا مانگ رہے ہیں

دکھلا دو انہیں نقشِ کفِ پائے محمدؐ
جو لوگ ستاروں کی ردا مانگ رہے ہیں

کھلتا ہی نہیں غنچۂ دل اپنا کسی سے
ہم گلشنِ طیبہ کی ہوا مانگ رہے ہیں

اے کاش پہنچ جائیں وہ گلزارِ نبیؐ میں
فردوسِ بریں کا جو پتا مانگ رہے ہیں

خورشیدِ حشر سے ہیں پریشان اُمتی
سرکارؐ سے رحمت کی ردا مانگ رہے ہیں

لکھنی ہے ہمیں نعتِ شہشناہِؐ دو عالم
اللہ سے ہم فکرِ رسا مانگ رہے ہیں

اعجازؔ ہیں جاں بخش مدینے کی ہوائیں
یہ لوگ ہیں کیسے جو قضا مانگ رہے ہیں