ملی جب مدینے کی ذیشان منزل

ملی جب مدینے کی ذیشان منزل
ہوئی حشر کی مجھ کو آسان منزل

دکھاتا ہے لوگو! جو قرآن منزل
یہ منزل بہت ہی ہے ذیشان منزل

مدینے کی ہے رہگزر ہی کچھ ایسی
مسافر پہ ہوتی ہے قربان منزل

بہکتا نہیں ہے بھٹکتا نہیں ہے
سمجھتا ہے اپنی مسلمان منزل

درِ مصطفیٰؐ تک پہنچ کر ہی دم لے
جو پہچان لے اپنی انسان منزل

جنونِ مدینہ لیے جا رہا ہے
نہ آسان رستا نہ آسان منزل

مسافر ہوں میں کوئے خیرالبشرؐ کا
نہ انجان رستا نہ انجان منزل

تصور میں ہر دم دیار نبیؐ سے
نظر کے مقابل ہے ہر آن منزل

یہ اعجازؔ ہے نقشِ پائے نبیؐ کا
کسی طور پر ہوتی نہ آسان منزل