مجھے کچھ خبر نہیں ہے کہ میں کون اور کیاہوں

مجھے کچھ خبر نہیں ہے کہ میں کون اور کیا ہوں
ہے یہی مرا تعارف میں غلامِ مصطفیؐ ہوں

غمِ دو جہاں سے کہہ دو مجھے کوئی غم نہیں ہے
یہ کرم ہے میرے رب کا میں مدینے آگیا ہوں

کوئی حادثہ جہاں کا نہ مجھے جگا سکے گا
پسِ روضۂ مبارک میں سکوں سے سو گیا ہوں

سرِ گلشنِ مدینہ مری روح وجد میں ہے
کبھی دیکھتا ہوں روضہ، کبھی خود کو دیکھتا ہوں

مرے خوں کی گردشوں میں جو چراغ سے ہیں روشن
کوئی نعت پڑھ رہا ہے میں درود پڑھ رہا ہوں

مرے حال کی گزارش مرے اشک کر رہے ہیں
یہ کہاں مجال میری میں حرم میں لب کشا ہوں

تھے بھرے ہوئے بہت سے مری زندگی میں کانٹے
جو ملی ہے ان کی خوشبو تو میں پھول بن گیا ہوں

مجھے غم نہیں زمانہ جو بدل رہا ہے کروٹ
میں حضورؐ آپ کا تھا میں حضور آپؐ کا ہوں

کسی اور کی میں مدحت جو کروں تو کیسے اعجازؔ
یہ کرم ہے مصطفیؐ کا کہ میں نعت لکھ رہا ہوں