اپنے ساتھ مدینے ساری محفل کو لے جاتا ہوں

اپنے ساتھ مدینے ساری محفل کو لے جاتا ہوں
مدحِ رسولِ اکرمؐ کے جب ساغر میں چھلکتا ہوں

فصلِ گنہ کی میرے بدن سے گرد اُتر جاتی ہے
ذکرِ نبیؐ میں کرتے کرتے آئینہ بن جاتا ہوں

اہلِ ستم کو دیتا ہوں پیغام نبیؐ کی سیرت کا
دیکھ کے نفرت کے کانٹوں کو پیار کے گل برساتا ہوں

تنہائی کے میرے گھر سے دور اندھیرے رہتے ہیں
صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کے دیپ جلاتا ہوں

قطرے سے بھی کمتر میری ذات، مری اوقات ہے کیا
ان کا کرم جب ہوتا ہے تو دریا میں بن جاتا ہوں

لمحہ لمحہ حبِّ نبیؐ کے پھول دلوں میں کھلتے ہیں
نعتِ نبیؐ کی خوشبو سے میں ذہنوں کو مہکاتا ہوں

دونوں جہاں کی دولت مجھ سے مفلس کو مل جاتی ہے
جاکے در سرکارؐ پہ اپنی جھولی جب پھیلاتا ہوں

فخر ہے اپنی ذات پہ مجھ کو، ناز ہے اپنی قسمت پر
ہے یہ بڑا اعزاز نبیؐ کا خادم میں کہلاتا ہوں

سچ تو یہ اعجازؔ کہ اس میں میرا کوئی اعجاز نہیں
نعتِ نبیؐ جب پڑھتا ہوں میں محفل پر چھا جاتا ہوں