ہر نور ہے وابستہ مدینے کی زمیں سے

ہر نور ہے وابستہ مدینے کی زمیں سے
آتے ہیں نظر عرش کے جلوے بھی یہیں سے

اک ہم کہ چلے آئے درِ سرورِ دیں سے
آتا ہے کوئی لوٹ کے فردوسِ بریں سے

اللہ کے محبوب سے بڑھ کر نہیں کوئی
گر شک ہے تو پھر پوچھ لو قرآنِ مبیں سے

جو لوگ سمجھتے نہیں سرکارؐ کا رتبہ
وہ لوگ تو واقف ہیں نہ دنیا سے نہ دیں سے

جب گنبدِ خضرا سے ملیں میری نگاہیں
کرنیں سی نکلنے لگیں میری بھی جبیں سے

ہر زائر طیبہ مجھے اپنا سا لگے ہے
آیا ہے کہیں سے کوئی آیا ہے کہیں سے

گہوارۂ رحمت جسے کہتے ہیں مدینہ
ہے میرا تعلق اسی فردوسِ زمیں سے

معراج میں کیا شان تھی محبوبؐ خدا کی
یہ بات تو پوچھے کوئی جبریلِ امیںؑ سے

محبوبؐ خدا سے مجھے اعجازؔ ہے نسبت
سرشار ہوں میں دولتِ ایمان و یقیں سے