شامل ہے خدا جس مدحت میں وہ مدحت تو سرکارؐ کی ہے

شامل ہے خدا جس مدحت میں وہ مدحت تو سرکارؐ کی ہے
قربان ہیں جس پہ دونوں جہاں وہ عظمت تو سرکارؐ کی ہے

یہ ان کی نوازش، ان کا کرم کونین جو اب تک ہیں قائم
سائے میں ہے جس کے دونوں جہاں وہ رحمت تو سرکارؐ کی ہے

سبحان اللہ سبحان اللہ ماشاء اللہ ماشاء اللہ
قرآن بھی شاہد ہے جس پر وہ سیرت تو سرکارؐ کی ہے

جز سرور عالم دنیا میں یہ اور کسی کا ظرف نہیں
دشمن کو دعائیں دیتے ہیں یہ عادت تو سرکارؐ کی ہے

یہ دین اور دنیا کے ناتے سرکار نہیں تو کچھ بھی نہیں
ایمان جسے ہم کہتے ہیں وہ الفت تو سرکارؐ کی ہے

مختار ہیں وہ، مجبور ہیں ہم، وہ سب کچھ ہیں، ہم کچھ بھی نہیں
جو کام ہمارے آئے گی وہ نسبت تو سرکارؐ کی ہے

کہتے ہیں جسے ہم کا ہکشاں وہ دھول ہے ان کے قدموں کی
جو فہمِ بشر سے بالا ہے وہ رفعت تو سرکارؐ کی ہے

سینچا ہے لہو سے آقاؐ نے اسلام کا ہے سر سبز شجر
پھل جس کا یہ دنیا کھاتی ہے یہ محنت تو سرکارؐ کی ہے

ہم جیسے گناہگاروں کا بھرم اللہ رکھے گا محشر میں
یہ کہہ کے کرم فرمائے گا یہ امت تو سرکارؐ کی ہے

میں نعت نگار آقاؐ ہوں کیوں روکے ہے رضواں اعجازؔ
معلوم نہیں کیا رضواں کو یہ جنت تو سرکارؐ کی ہے