مصطفیؐ کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں

مصطفیؐ کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں
رحمتوں کے سائے بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں

ان کے چاہنے والے کم کبھی نہیں ہوتے
اک چراغ بجھتا ہے سو چراغ جلتے ہیں

جانبِ مدینہ جب میں قدم بڑھاتا ہوں
حادثے زمانے کے مجھ سے بچ کے چلتے ہیں

رحمتیں برستی ہیں ہر گھڑی مدینے میں
رنگ و نور کے چشمے رات دن ابلتے ہیں

یاد مصطفیؐ جب بھی عکس ریز ہوتی ہے
آنسوؤں کی صورت میں آفتاب ڈھلتے ہیں

سرور دو عالمؐ کے در کو چھوڑنے والے
رہنما بدلتے ہیں راستے بدلتے ہیں

بارشِ کرم جن پہ آسماں سے ہوتی ہے
وہ شجر ہی گلشن میں پھولتے ہیں پھلتے ہیں

اس جگہ سے گزرے ہیں بے جھجک حضورؐ اعجازؔ
معتبر فرشتے کے پر جہاں پہ جلتے ہیں