قدم قدم انہیں وابستگی شعور سے ہے

قدم قدم انہیں وابستگی شعور سے ہے
وہ سارے لوگ تعلق جنہیں حضورؐ سے ہے

کرم تھا پہلے بھی اس کائنات پر رب کا
یہ لطفِ خاص تو سرکارؐ کے ظہور سے ہے

حبیبؐ ربِّ علا اور یہ خلق کا عالم
سراپا عجز ہیں نفرت انہیں غرور سے ہے

اسی چراغ سے سارے چراغ روشن ہیں
کہ جس چراغ کو نسبت نبیؐ کے نور سے ہے

قیامتوں سے قیامت میں سب ہی گزریں گے
مگر وہ لوگ محبت جنہیں حضورؐ سے ہے

بدستِ ساقیٔ کوثرؐ نصیب جو ہوگا
مری مراد اسی مستقل سرور سے ہے

عجیب قربِ خدا کی ہیں منزلیں اعجازؔ
کسی کو عرش سے نسبت کسی کو طور سے ہے