مشکلوں کا اگر کوئی حل چاہیے

مشکلوں کا اگر کوئی حل چاہیے
اسوۂ مصطفیؐ پر عمل چاہیے

دل میں روشن کرو شمع حبِّ نبیؐ
گر تمہیں تیرگی کا بدل چاہیے

اک طرف ہے حرم، اک طرف میکدہ
زندگی چاہیے یا اجل چاہیے

ظلمتِ شرک میں نور توحید ہے
روشنی آفتاب ازل چاہیے

جنگ کے وقت بھی مصطفیؐ کی طرح
فیصلہ چاہیے اور اٹل چاہیے

اک نظر دیکھ لے وہ دیار نبیؐ
جس کو جنت کا نعم البدل چاہیے

جس کے صدقے میں ایماں کی دولت ملی
اس کی توصیف ایک ایک پل چاہیے

جھوم اٹھیں جس کو سن کر زمیں آسماں
نعت کے رنگ میں وہ غزل چاہیے

عاشقانِ نبیؐ جمع اعجازؔ ہیں
نعتِ محبوبؐ رب برمحل چاہیے