جدا جو لب سے درود و سلام ہو جائے

جدا جو لب سے درود و سلام ہو جائے
ذرا سی دیر میں جینا حرام ہو جائے

زہے نصیب جو میرا یہ کام ہو جائے
نصیب کوچۂ شاہِ انامؐ ہو جائے

فروغِ علم سے ہو جائے یہ جہاں جنت
اگر حضورؐ کا رائج نظام ہو جائے

نبیؐ کا ذکر ہوا ہے نہ ہوگا ختم کبھی
قسم خدا کی یہ دنیا تمام ہو جائے

شہہِ اُمم کی غلامی کا طوق تو پہنو
ابھی یہ وقت کی گردش غلام ہو جائے

جسے حیات دو روزہ کو طول دینا ہو
نبیؐ کے عشق میں مٹ کر دوام ہو جائے

سمجھ لو آ گئی سرحد دیار رحمت کی
اذیتوں کا جہاں اختتام ہو جائے

کسی کے ہاتھوں میں تلوار ہو نہ خنجر ہو
مرے حضور کی سیرت جو عام ہو جائے

میں نعت لکھتا ہوں پڑھتا ہوں اس لیے اعجازؔ
مرا بھی نعت نگاروں میں نام ہو جائے