وہ کہ جس کو منصبِ کون و مکاں بخشا گیا

وہ کہ جس کو منصبِ کون و مکاں بخشا گیا
اس کے نقشِ پا کو اوجِ کہکشاں بخشا گیا

انبیائے ما سلف کے دائرے محدود تھے
سرورِ عالمِ کو کارِ دو جہاں بخشا گیا

آپؐ کی خاطر سنوارا رب نے نظمِ کائنات
آدمی کو علم و دانش کا جہاں بخشا گیا

یہ عطائے رب بفیضِ رحمتِ للعالمینؐ
میں نے گل مانگا تھا مجھ کو گلستاں بخشا گیا

خادمانِ مصطفیٰؐ پر یہ کرم اللہ کا
راحتیں جتنی ہیں اتنا غم کہاں بخشا گیا

بڑھ کے خود منزل نے چومے ہر مسافر کے قدم
کارواں کو جب امیرِ کارواں بخشا گیا

خود چلا آئے گا رضواں اس کے استقبال کو
جو خدا اور مصطفیٰؐ کے درمیان بخشا گیا

واسطہ جن کو نہیں کوئی درِ سرکارؐ سے
ان چراغوں کے مقدر میں دھواں بخشا گیا

وہ زمیں جس پر کہ سایۂ گنبدِ خضرا کا ہے
اس کے ذرّوں کو بھی حسنِ کہکشاں بخشا گیا

مان لو اعجازؔ شہر مصطفیٰؐ کی شکل میں
بے اماں لوگوں کو اک دارالاماں بخشا گیا