نبیؐ کے نام سے روشن جو ہے مدینے میں

نبیؐ کے نام سے روشن جو ہے مدینے میں
وہی چراغ ہے روشن ہمارے سینے میں

بلند سارے مہینوں سے ہے مقام اس کا
حضور لائے ہیں تشریف جس مہینے میں

کوئی مقام نہیں جی جہاں بہل جائے
کہ زندگی کا مزا ہے تو بس مدینے میں

در نبیؐ پہ پہنچ کر بہے گا آنکھوں سے
چھپا ہوا ہے جو طوفاں ہمارے سینے میں

سوائے شہرِ نبیؐ اس جہانِ فانی میں
مزا کہیں بھی نہ مرنے میں ہے نہ جینے میں

مقابل آئے تو ہو جائے ریزہ ریزہ پہاڑ
بھری ہے حبِّ نبیؐ دل کے آبگینے میں

کچھ اور بھی تو ہیں اعجازؔ طالب کوثر
بہت ہی دیر لگا دی ہے تم نے پینے میں