جاؤں کیوں کوئے خیرالبشرؐ چھوڑ کے

جاؤں کیوں کوئے خیرالبشرؐ چھوڑ کے
کوئی جاتا نہیں اپنا گھر چھوڑ کے

کوئی منزل سوائے مدینہ نہیں
اک سفر چن لیا ہر سفر چھوڑ کے

کوئی لمحہ سکوں کا ملے گا کہاں
یہ مدینے کی شام و سحر چھوڑ کے

خوشبوئے مصطفیٰؐ راہبر بن گئی
چل دیے جب مجھے ہمسفر چھوڑ کے

جب دیارِ نبیؐ کو کہا الوداع
اشک گرنے لگے چشمِ تر چھوڑ کے

آدمی کا مقدر ہوئیں ظلمتیں
کیا ملا روشنی کا نگر چھوڑ کے

دار فانی سے رخصت ہوئے مصطفیٰؐ
اپنے قول و عمل کے گہر چھوڑ کے

بس یہی نا کہ در در بھٹکنے لگے
کیا کسی کو ملا ان کا در چھوڑ کے

اب تو طیبہ میں مسکن ہے اعجازؔ کا
کیوں دعا جائے باب اثر چھوڑ کے