اسوۂ سیدِ ابرارؐ نے دل جیت لیے

اسوۂ سیدِ ابرارؐ نے دل جیت لیے
سنگ زاروں کے بھی سرکارؐ نے دل جیت لیے

مل گیا مفت میں فردوس کا سودا ہم کو
آپ کے کوچۂ و بازار نے دل جیت لیے

دشمنوں پر بھی کیے آپ نے احسان حضورؐ
آپ کے خلق نے، کردار نے دل جیت لیے

عالم کفر کیا آپؐ نے درہم برہم
جسم کیا آپ کے ایثار نے دل جیت لیے

غم کے مارے ہوئے آسودۂ راحت کیا کیا
گنبدِ سبز کے مینار نے دل جیت لیے

اب کہیں اور ملے گی نہ سکوں کی دولت
آپؐ کے سایۂ دیوار نے دل جیت لیے

ہو گیا کون یہ ناموسِ رسالت پہ نثار
پارساؤں کے گنہگار نے دل جیت لیے

خوش کلامی نبیؐ کا ہے یہ اعجاز اعجازؔ
کون کہتا ہے کہ تلوار نے دل جیت لیے