لب پہ مدحت جو مصطفیٰؐ کی ہے

لب پہ مدحت جو مصطفیٰؐ کی ہے
مجھ پہ رحمت مرے خدا کی ہے

جسمِ انسانیت کو شاہِ اُمم
آپؐ نے زندگی عطا کی ہے

جل رہے ہیں جو کہکشاں کے چراغ
روشنی کس کے نقشِ پا کی ہے

جھول جس میں برائے نام نہیں
بات وہ بات مصطفیٰؐ کی ہے

جس کے صدقے میں دونوں عالم ہیں
ذات محبوبؐ کبریا کی ہے

کیا بجھے گا چراغِ حبِّ نبیؐ
اتنی ہمت کہاں ہوا کی ہے

یہ تو تاریخ ہی بتائے گی
کس نے کس کے لیے دعا کی ہے

جبر سہہ کر نبیؐ نے طائف میں
قیمتِ دینِ حق ادا کی ہے

پیار کی، خلق کی، مروّت کی
میرے آقاؐ نے ابتدا کی ہے

ایک اُمی رسولؐ نے اعجازؔ
روشنی فکر کو عطا کی ہے