ہے اسی صورت مرے آقاؐ کی رحمت ساتھ ساتھ

ہے اسی صورت مرے آقاؐ کی رحمت ساتھ ساتھ
جس طرح رہتی ہے انساں کے، ضرورت ساتھ ساتھ

روضۂ سرکارؐ ہے میرے تصّور کی اساس
دوستو! رکھتا ہوں میں تو اپنی جنت ساتھ ساتھ

تھام لے دامن نبیؐ کا، توڑ دے ہر دائرہ
دین و دنیا کی نہیں رہتی محبت ساتھ ساتھ

سر جھکائے چپ کھڑا ہوں میں در سرکارؐ پر
کہہ رہے ہیں حال دل اشکِ ندامت ساتھ ساتھ

ذکرِ سرکارؐ دو عالم جس قدر کرتا ہوں میں
بڑھتی جاتی ہے مری بھی قدر و قیمت ساتھ ساتھ

واسطہ اس کا نہیں کوئی رسولؐ اللہ سے
چل نہیں سکتی شریعت کے، جو امت ساتھ ساتھ

جب سے ہم نے ہاتھ سے چھوڑا ہے دامانِ رسولؐ
چل رہی ہے راہِ ہستی میں قیامت ساتھ ساتھ

صورت و کردار ہم آہنگ ہیں کچھ اِس طرح
پھول میں رہتے ہیں جیسے رنگ و نکہت ساتھ ساتھ

ہے یہی اعجازؔ اب کارِ زباں، کارِ قلم
شکرِ خالق، سرورِ دیں کی ہے مدحت ساتھ ساتھ