ہے جو ذات شہہِ اُمم خوشبو

ہے جو ذات شہہِ اُمم خوشبو
اس کی توصیف کم سے کم خوشبو

ساتھ میرے دیار طیبہ میں
چل رہی ہے قدم قدم خوشبو

ذکر جب چھڑ گیا پسینے کا
ہو گئی اور محترم خوشبو

مصطفیؐ کے سوا دو عالم میں
کون ہے سر سے تا قدم خوشبو

پھیلتی ہے جو ذکر سے ان کے
ہے وہ خوشبو بڑی اہم خوشبو

جس سے بیدار ذہن ہوتا ہے
جاگتی ہے سرِ حرم خوشبو

صبح تک میں درود پڑھتا رہا
آ گئی کام شامِ غم خوشبو

محو میں ذکرِ مصطفیؐ میں رہا
مجھ پہ کرتی رہی کرم خوشبو

لکھ رہا ہوں نعتِ پاک اعجازؔ
ہاتھ خوشبو مرا قلم خوشبو