صدیاں گزر گئی ہیں جنبش میں ہر قلم ہے

صدیاں گزر گئی ہیں جنبش میں ہر قلم ہے
مدحت مگر نبیؐ کی لکھے یہ کس میں دم ہے

دونوں کے درمیاں اب اک طالب کرم ہے
ہے اس طرف مدینہ اور اس طرف حرم ہے

آدمؑ سے تا بہ عیسیٰؑ سب کا بلند رتبہ
ہم اس کے اُمتی ہیں جو سب سے محترم ہے

طیبہ کے راستے بھی کیا خوب راستے ہیں
چل کے تو کوئی دیکھے جنت قدم قدم ہے

میرا یقیں نہیں تو قرآں سے پوچھ لیجیے
سرکارؐ جو بھی کہہ دیں وہ بات ہی اہم ہے

باہر نہیں ہے کوئی رحمت کے دائرے سے
اک ذات مصطفیؐ کی کونین کا بھرم ہے

صدقے میں مصطفیؐ کے سب کام بن رہے ہیں
اللہ کا کرم تھا، اللہ کا کرم ہے

خلقِ شہہِ اُمم کا چُھوٹا ہے جب سے دامن
اس عہدِ ارتقا میں انساں شکار غم ہے

سرکارؐ جیسا مشفق اعجازؔ کون ہوگا
مجھ سا بھی اک عاصی آسودۂ کرم ہے