حمد کیا لکھی کہ قسمت کے دریچے کُھل گئے

حمد کیا لکھی کہ قسمت کے دریچے کھل گئے
لب پہ نعت آئی تو رحمت کے دریچے کھل گئے

آدمی پر آدمیت کے دریچے کھل گئے
بند تھے صدیوں سے عظمت کے دریچے کھل گئے

دولت انساں کو ملی دنیا میں اطمینان کی
آپؐ کے آنے سے راحت کے دریچے کھل گئے

مصطفیؐ کی رفعتوں کو دیکھ کر معراج میں
آسماں والوں پہ حیرت کے دریعے کھل گئے

آپؐ کے قدموں سے آئی بزمِ عالم میں بہار
رنگ کی رت آئی نکہت کے دریچے کھل گئے

ارتقا کے گر بتائے آپؐ نے انسان کو
علم کی دولت سے حکمت کے دریچے کھل گئے

جب کہا صلِّ علیٰ گونج اٹھی ساری کائنات
یوں لگا جیسے سماعت کے دریچے کھل گئے

آپؐ سے پہلے یہ دنیا اک جہنم زار تھی
آپؐ کے آنے سے جنت کے دریچے کھل گئے

مدحتِ خیر البشرؐ کا یہ بھی اک اعجاز ہے
نعت کیا لکھی کہ قسمت کے دریچے کھل گئے