درِ حضورؐ نہیں نالۂ و فغاں کے لیے

درِ حضورؐ نہیں نالۂ و فغاں کے لیے
یہاں درود ہے واجب ہر اک زباں کے لیے

بجز مدینہ کہیں روح کو سکوں نہ ملا
کہاں کہاں نہ گئے ہم قرارِ جاں کے لیے

ہمیں تو درس دیا ہے یہی شہہِؐ دیں نے
کہ آدمی رہے تیار امتحاں کے لیے

لگا لیے شبِ معراج اپنے سینوں سے
وہ نقشِ پا جو ضروری تھے آسماں کے لیے

حضورؐ آپ کے آنے سے وہ بہار آئی
کہ جو بہار نہیں ہے کسی خزاں کے لیے

مرے حضورؐ اجازت اگر ہو طیبہ میں
زمین چاہیے تھوڑی سی اک مکاں کے لیے

نبیؐ کے ذکر کی قندیل کیجیے روشن
چراغ لازمی ہوتا ہے ہر مکاں کے لیے

حضورؐ چشمِ کرم ہو گناہگاروں پر
کھڑے ہیں حشر کے میدان میں اماں کے لیے

ہمیں یہ حکم دیا ہے رسولِ اکرمؐ نے
دعائیں مانگیے اللہ سے جناں کے لیے

حضورؐ جیسا نہیں ہے کوئی امام اعجازؔ
بلالؓ جیسا مؤذن نہیں اذاں کے لیے