گفتگوئے بشر ارتقا تک گئی

گفتگوئے بشر ارتقا تک گئی
مصطفیؐ سے چلی مصطفیؐ تک گئی

ذات سرکارؐ عرشِ علا تک گئی
وہ گئے ان کی نعلینِ پا تک گئی

ذکر جب چھڑ گیا باغِ فردوس کا
بات طیبہ کی آب و ہوا تک گئی

وحیٔ رب روشنی کی وہ پہلی کرن
عرش سے آئی غارِ حرا تک گئی

روکنے کو تو رضواں مجھے روک لے
اور اگر بات خیرالوریٰؐ تک گئی

وہ مکاں سے سفر لامکاں کی طرف
ابتدا دیکھتے انتہا تک گئی

عظمتوں کی حرا سے چلی گفتگو
اور معراجِ خیرالوریٰؐ تک گئی

تذکرہ نعت کا بھی تھا فہرست میں
جب نظر ان کی میری خطا تک گئی

زندگی اور اعجازؔ جاتی کہاں
کوچۂ سرورِ انبیاؑ تک گئی