محبت در گزر، ایثار، اخلاق و مروّت ہے

محبت در گزر، ایثار، اخلاق و مروّت ہے
محمد مصطفیؐ کی ذات تو رحمت ہی رحمت ہے

بشر کا ارتقا مرہونِ تعلیمِ رسالت ہے
زمانے کو اجالے کی ضرورت تھی ضرورت ہے

ہیں جتنے دائرے سچائی کے طیبہ سے ملتے ہیں
طریقت تو وہی ہے جو کہ پابندِ شریعت ہے

دیے روشن رہیں گے حشر تک ان کے اصولوں کے
نسیمِ کوچۂ رحمت چراغوں کی ضمانت ہے

ذرا سوچو کہ اس محبوبؐ رب کی ذات کیا ہوگی
دلوں پر آج بھی جس کے غلاموں کی حکومت ہے

رہے گا تا ابد شاداب گلشن سرورؐ دیں کا
بہارِ رنگ و نکہت سبز گنبد کی بدولت ہے

نبیؐ کے ذکر سے روشن ہیں لمحوں کی یہ قندیلیں
نبیؐ کے نام سے روشن چراغ آدمیت ہے

کریں تو کس زباں سے ہم کریں دعویٰ محبت کا
نہ اپنے پاس صورت ہے نہ اپنے پاس سیرت ہے

چُھٹا ہے جب سے ہاتھوں سے ہمارے دامنِ رحمت
جدھر دیکھو زمانے میں قیامت ہی قیامت ہے

ضروری ہے جہاں میں اتباع سرورؐ عالم
محمدؐ کی غلامی کا صلہ اعجازؔ جنت ہے