صرف اک شب جو مدینے میں بسر کرتے ہیں

صرف اک شب جو مدینے میں بسر کرتے ہیں
زندگی بھر وہ اجالوں میں سفر کرتے ہیں

جنبشِ لب کی مدینے میں کہاں گنجائش
گفتگو صرف یہاں دیدۂ تر کرتے ہیں

اس کو مل جاتی ہے دنیا کے ہر اک غم سے نجات
جس کی جانب مرے سرکارؐ نظر کرتے ہیں

آج بھی قول ہیں انمول مرے آقاؐ کے
آج بھی قلب میں دشمن کے وہ گھر کرتے ہیں

جن کو اللہ نے بخشی ہے ثنا کی توفیق
مدحتِ شاہِؐ امم شام و سحر کرتے ہیں

کیا مقدر ہمارا بھی بیادِ سرکارؐ
ہم جو روتے ہیں تو اشکوں کو گہر کرتے ہیں

علم کی شمعیں جلاتے ہیں اندھیرے میں حضورؐ
بے ہنر کو وہ عطا دستِ ہنر کرتے ہیں

بانٹتے ہیں سحر و شام اجالے آقاؐ
کتنے ذرّوں کو وہ خورشید و قمر کرتے ہیں

کوئی کام اور تو آتا نہیں اعجازؔ ہمیں
مدحتِ سرورِ کونینؐ مگر کرتے ہیں