خدائی رب کی خدا کی رحمت کہاں نہیں تھی کہاں نہیں ہے

خدائی رب کی خدا کی رحمت کہاں نہیں تھی کہاں نہیں ہے
زمیں کا ایسا ہے کوئی گوشہ کہ جس جگہ آسماں نہیں ہے

وہ روشنی کی سفیر بھی ہے وہی چراغِ منیر بھی ہے
نبیؐ کی ذات اک دیا ہے ایسا کہ جس دیے میں دھواں نہیں ہے

ادب سے چلتی صبا ملے گی کلی کلی جاں فزا ملے گی
رسولِ اکرمؐ کے گلستاں میں خزاں کا نام و نشاں نہیں ہے

چلو مدینے چلو مدینے چلو مدینے چلو مدینے
زمیں کے اوپر فلک کے نیچے کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے

ہیں بے شمار آج بھی مؤذن، امام بھی ان گنت ہیں لیکن
امام کوئی رسولؐ جیسا، بلالؓ جیسی اذاں نہیں ہے

جو دشمنوں کو معاف کر دے جو گرد ذہنوں کی صاف کر دے
خدا ہے شاہد کہ اس جہاں میں حضورؐ سا مہرباں نہیں ہے

!پڑھوں درود اور سلام بھیجو کہ یہ طریقہ ہے رب کا لوگو
جو وقت ذکرِ نبیؐ میں گزرے قبول ہے رائیگاں نہیں ہے

جو لکھے اعجازؔ شان ان کی بیاں کرے جو کرم کی باتیں
کوئی بھی ایسا قلم نہیں ہے کوئی بھی ایسی زباں نہیں ہے