ہر قدم پر وہاں رفعتیں ہیں رفعتوں کا یہ عالم کہاں ہے

ہر قدم پر وہاں رفعتیں ہیں رفعتوں کا یہ عالم کہاں ہے
گنبدِ سبز ہے جس زمیں پر اس کی وسعت میں گم آسماں ہے

کیا کوئی اور ایسا ہے انساں دے رہا ہے گواہی یہ قرآں
جس کے لہجے میں رب بولتا ہے مصطفیؐ کی زباں وہ زباں ہے

ساتھ ہو جس کے رحمت خدا کی کیا ضرورت اسے رہنما کی
نقشِ پائے نبیؐ سامنے ہیں اب بھٹکنے کا امکاں کہاں ہے

آگئی کام آقاؐ کی مدحت جاگ اٹھا ہے شعور سماعت
ذکرِ خیرالبشرؐ کر رہا ہوں رب اکبر مرا ہم زباں ہے

بام و در وجد میں جھومتے ہیں چاند تارے زمیں چومتے ہیں
پھول مدحت کے جب سے کھلے ہیں رشکِ جنت ہمارا مکاں ہے

ان کی راہوں سے بھٹکے ہیں کیا ہم، راس آتا نہیں کوئی موسم
کل تلک دھوپ ہم پر گراں تھی آج سایا بھی ہم پر گراں ہے

کس کا صدقہ ہے انساں کی عظمت، دین و دنیا ہے کس کی بدولت
ذات اعجازؔ خیرالبشرؐ کی عبد و معبود کے درمیاں ہے