وہ نبیؐ جو کہ اُمی لقب ہے علم کا استعارہ وہی ہے

وہ نبیؐ جو کہ اُمی لقب ہے علم کا استعارہ وہی ہے
کہکشاں جس کا نقشِ قدم ہے سب کی آنکھوں کا تارا وہی ہے

جس کی رحمت کا ہے سب پہ سایا جس نے بندوں کو رب سے ملایا
کل بھی محسن وہی تھا ہمارا اب بھی محسن ہمارا وہی ہے

ذات ہے جب رسولؐ خدا کی، کیا ضرورت ہمیں رہنما کی
جس نے دنیا میں کی رہنمائی حشر میں بھی سہارا وہی ہے

جنگِ بدر و اُحد نے بتایا زندگی کا قرینہ سکھایا
جس کو طوفان سمجھتی ہے دنیا اصل میں تو کنارا وہی ہے

باعثِ راحت و شادمانی حاصلِ و عظمت و کامرانی
یادِ محبوبؐ داور میں یارو! جو بھی لمحہ گزارا وہی ہے

ہیں اگر روح کے چاک سینے آؤ مل کر چلیں سب مدینے
جو مسیحاؤں کا ہے مسیحا زخمِ عصیاں کا چارہ وہی ہے

اس پہ قربان ہیں ماہ و انجم اس کی کرنوں سے ہے ماند سورج
گنبدِ سبز ہے نام جس کا روشنی کا منارا وہی ہے

ہر مسلمان کو یہ خبر ہے وہ بشر ہو کے خیر البشرؐ ہے
جس کے پیغامبر مصطفیؐ ہیں رب ہمارا تمہارا وہی ہے