دیارِ مصطفیؐ سے خلد کی جاگیر ملتی ہے

دیارِ مصطفیؐ سے خلد کی جاگیر ملتی ہے
جدھر دیکھو ادھر تنویر ہی تنویر ملتی ہے

کسی در پر مسائل زندگی کے حل نہیں ہوں گے
وہیں چلیے جہاں تدبیر سے تقدیر ملتی ہے

یہاں کی خاک بھی تو سرمۂ اہلِ بصیرت ہے
یہ وہ در ہے جہاں اندھوں کو بھی تنویر ملتی ہے

کہیں صورت کے جلوے ہیں، کہیں سیرت کے جلوے ہیں
کہیں اجمال ملتا ہے کہیں تفسیر ملتی ہے

شجاعت ہو، صداقت ہو، محبت ہو، دیانت ہو
ہر اک تصویر میں سرکارؐ کی تصویر ملتی ہے

وجودِ بزمِ امکاں کیا ہے صدقہ ہے شہہِؐ دیں کا
جبینِ وقت پر کندہ یہی تحریر ملتی ہے

فرشتے پیشوائی کے لیے موجود ہوتے ہیں
مدینے کے مسافر کو بڑی توقیر ملتی ہے

مجھے دعویٰ نہیں اعجازؔ کوئی نعت گوئی کا
مگر مدحت سے ان کی مجھ کو بھی توقیر ملتی ہے