یہ کرم میرے رب کا نہیں کم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

یہ کرم میرے رب کا نہیں کم، گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں
ایک سرشاریوں کا ہے عالم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

قرب حاصل ہے مجھ کو نبیؐ کا آ رہا ہے مزا زندگی کا
وجد میں ہے مری روح پیہم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

مدحتوں کے صلے مل رہے ہیں، پھول ایمان کے کھل رہے ہیں
ہر طرف رحمتوں کا ہے موسم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

دھڑکنوں کی رسائی نہیں ہے جرأتِ لب کشائی نہیں ہے
میں ہوں اور میں مرے دیدۂ نم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

دور دنیا کے غم ہو رہے ہیں کیسے کیسے کرم ہو رہے ہیں
مل گیا زخمِ عصیاں کا مرہم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

ہو کرم مجھ پہ محبوبِؐ داور زخم ہی زخم آیا ہوں لے کر
آنکھ میں آنسوؤں کی ہے شبنم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

آرزو کا کنول کھل گیا ہے زندگی کو سکوں مل گیا ہے
زلف ہستی نہ اب ہوگی برہم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

آپ سے ہے بس اتنی گزارش اب سر حشر بھی ہو نوازش
آج تو میں رسولِؐ مکرم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں

ظلمتوں کے ستوں گر گئے ہیں میرے اعجازؔ دن پِھر گئے ہیں
چھو نہ پائے گی مجھ کو شبِ غم گنبدِ سبز کے سائے میں ہوں