جہانِ تیرگی میں روشنی کا انقلاب آیا

جہانِ تیرگی میں روشنی کا انقلاب آیا
بشکلِ مصطفیؐ علم و عمل کا آفتاب آیا

خداکا فضل تو آدمؑ سے تا عیسیٰؑ سبھی پر تھا
جب آئے مصطفیؐ تو رحمتِ رب پر شباب آیا

قدم جب رحمتہ للعالمیںؐ کے آئے دینا میں
اسی دن جبر و استبداد کا یوم حساب آیا

گلوں کو دیکھ کر نجم و قمر شرمائے جاتے ہیں
چمن میں رنگ و نکہت کا یہ کیسا انقلاب آیا

اجالوں کی فراوانی سے حیرت میں زمانہ تھا
دعاؤں کا خلیل اللہ کی کیسا جواب آیا

ستم کی دھوپ میں پھیلا دیے سائے محبت کے
یہ کون آیا جو لے کر ساتھ رحمت کا سحاب آیا

چراغِ اسوۂ سرکارؐ ہم نے کر لیا روشن
سواد قریۂ جاں میں زمانہ جب خراب آیا

صدائے ربِّ سلم گونج اٹھی میدانِ محشر میں
گنہگارو! مبارک شافعِ روزِ حساب آیا

زباں پر ہو گیا بے ساختہ صلِّ علیٰ جاری
مدینے کا مری آنکھوں میں جب اعجازؔ خواب آیا