ہم پہ کیوں طنز کرے کوئی جو ہم رکھتے ہیں

ہم پہ کیوں طنز کرے کوئی جو ہم رکھتے ہیں
سب ہی سرکارؐ سے اُمیدِ کرم رکھتے ہیں

ہو گنہ گار کوئی یا ہو نکو کار کوئی
اُن پہ قربان، کہ وہ سب کا بھرم رکھتے ہیں

ٹوٹ جاتے ہیں وہاں پہ اندھیروں کے قدم
جس جگہ سیدِ ابرارؐ قدم رکھتے ہیں

یادِ سرکارؐ مدینہ میں ہیں روشن آنکھیں
ہم تو پلکوں پہ ستارے شبِ غم رکھتے ہیں

اور اپنا کوئی معیار نہیں ہو سکتا
ہم تو اقوالِ شہنشاہِؐ اُمم رکھتے ہیں

پڑھتی رہتی ہے دُرود اُن پہ لہو کی گردش
ہم اُجالوں میں سدا دِل کا حرم رکھتے ہیں

مرتبہ دیکھنا اُن کا سرِ دربارِ نبیؐ
چند آنسو جو مرے دیدۂ نم رکھتے ہیں

کس لیے خوفِ تمازت ہو انہیں محشر میں
سر پہ جو سایۂ دامانِ کرم رکھتے ہیں

مدحِ سرکارِؐ دو عالم ہے زباں کی معراج
نعت لکھنے کو ہم اعجازؔ قلم رکھتے ہیں