خدا نے جس کی خاطر بزمِ امکاں کو سنوارا ہے

خدا نے جس کی خاطر بزمِ امکاں کو سنوارا ہے
بہرِ عالم اُسی کی ذات، اپنا بھی سہارا ہے

عمل اُس نے کیا ہے حکمِ سرکارِؐ دو عالم پر
خدائے لم یزل کو جس نے مشکل میں پکارا ہے

بفیضِ سرورِ عالمؐ میسّر ہے ہمیں سب کچھ
ہماری زندگی ورنہ خسارا ہی خسارا ہے

مہ و خورشید کا غازہ غبار رہگزر ان کا
مدارِ کہکشاں نقشِ قدم کا استعارا ہے

ہر اک موسم ہے ان کے گیسووں رخسار کا موسم
نہ کوئی شب ہماری ہے نہ کوئی دن ہمارا ہے

اُٹھایا آپؐ نے خنجر، نہ نوبت تیغ کی آئی
مرے سرکارؐ نے اخلاق سے دشمنوں کو مارا ہے

کوئی زنجیر مجھ کو روک لے یہ ہو نہیں سکتا
کہ میرا رِزق طیبہ میں مرے رب نے اُتارا ہے

ہم اُن کا نام لیتے ہیں عمل سے دُور رہتے ہیں
نبیؐ سے اب تعلق صرف اِتنا سا ہمارا ہے

مجھے توفیق دی اعجازؔ رب نے نعت لکھنے کی
یقیناً اَوج پر میرے مقدر کا ستارا ہے