درِ پاک پر جو بسر ہو گئے ہیں

درِ پاک پر جو بسر ہو گئے ہیں
وہ لمحے بڑے معتبر ہو گئے ہیں

میں تنہا چلا تھا مدینے کی جانب
فرشتے مرے ہمسفر ہو گئے ہیں

وہ آنسو جو نکلے ہیں یادِ نبیؐ میں
ستارے بنے ہیں، گہر ہو گئے ہیں

وہ نقشِ قدم کہکشاں ہیں فلک پر
زمیں پر چراغِ ہنر ہو گئے ہیں

جو آئے تھے ہجرِ مدینہ میں لب پر
وہ نالے اذانِ سحر ہو گئے ہیں

بہارِ مدینہ کا پیغام سن کر
میسّر مجھے بال و پر ہو گئے ہیں

عمل جب کیا اُسوۂ مصطفیؐ پر
مصیبت کے دِن مختصر ہو گئے ہیں

نسیمِ بہارِ مدینہ کے صدقے
کھلے جو بھی گل معتبر ہو گئے ہیں

بروزِ قیامت گنہگار سارے
جدھر ہیں محمدؐ اُدھر ہو گئے ہیں

یہ اعجازؔ ہے خاکِ پائے نبیؐ کا
جو اندھے تھے بالغ نظر ہو گئے ہیں