دونوں جہاں ہیں سائے میں جس کے ، کس کی رحمت آپؐ کی ہے

دونوں جہاں ہیں سائے میں جس کے ، کس کی رحمت آپؐ کی ہے
جس کی کوئی تمثیل نہیں وہ، صورت، سیرت آپؐ کی ہے

آپؐ کے دامن میں سب کچھ ہے، آپ نہیں تو کچھ بھی نہیں
کل بھی ضرورت آپ کی تھی اور اب بھی ضرورت آپؐ کی ہے

آپؐ کے قدموں سے وابستہ، آج بھی منزل عظمت کی
آج بھی انسانوں کی رہبر، صرف شریعت آپؐ کی ہے

آپ کی نسبت سے میں مسلماں، آپ کی نسبت سے مومن
سرورِ عالمؐ بخشی ہوئی، ایمان کی دولت آپؐ کی ہے

آپ کے نام پہ سب کچھ قرباں، آپ کے حکم پہ ہم صدقے
کوئی محبت ایسی نہیں، جیسی محبت آپ کی ہے

آپ اِماموں کے بھی اِمام، اور آپ رسولوں کے بھی رسولؐ
وہ جو ازل سے تابہ ابد ہے، صرف نبوت آپؐ کی ہے

دنیا اور دنیا کے ناتے، کمتر کچے دھاگوں سے
سارے رشتوں سے مستحکم، صرف اِک نسبت آپؐ کی ہے

پاس تو اپنے کچھ بھی نہیں، اُمید کا دامن ہاتھ میں ہے
خوش ہیں ہم سے عاصی بھی، یہ جان کے جنت آپؐ کی ہے

اب تک تو نازِل ہو جاتا، اِس دنیا پر رب کا عذاب
روکے ہوئے اس بربادی کو، آقا رحمت آپؐ کی ہے

اور کسی کی عظمت کا، اعجازؔ قصیدہ کیوں میں لکھوں
میری زباں پر سرورؐ عالم، آج بھی مدحت آپؐ کی ہے