ذکرِ سرکارؐ سے مہکی ہوئی تنہائی ہے

ذکرِ سرکارؐ سے مہکی ہوئی تنہائی ہے
آج فردوس مرے گھر میں اُتر آئی ہے

یہ جو اَخلاق کی انساں کے بدن پر ہے قبا
سب سے پہلے مرے سرکارؐ نے پہنائی ہے

ہم مدینے میں جو پہنچے تو یہ احساس ہوا
زندگی کتنے اندھیروں سے گزر آئی ہے

شاہِؐ دیں آپ کی سیرت نے کھلائے وہ گلاب
آج کانٹوں میں بھی احساسِ پذیرائی ہے

شدتِ یادِ مدینہ تری عظمت کے نثار
جو بھی آنسو ہے چراغِ شبِ تنہائی ہے

اُس پہ قربان دو عالم کی ہے عظمت جس نے
سایۂ دامنِ رحمت میں جگہ پائی ہے

آپؐ کا ہو کے نہ مانے جو حضور آپ کی بات
ایسے انسان کی تقدیر میں رسوائی ہے

شورِ محشر سے بھی اب تو نہ کھلیں گی آنکھیں
گنبدِ سبز کے سائے میں جو نیند آئی ہے

نعت کے نور نے بخشی یہ بصیرت اعجازؔ
اِن اندھیروں میں سلامت مری بینائی ہے