درودِ شہہِؐ بحر و بر ہو رہا ہے

درودِ شہہِؐ بحر و بر ہو رہا ہے
زمانہ ادِھر سے اُدھر ہو رہا ہے

حرا میں جو لمحہ بسر ہو رہا ہے
خدا کی قسم معتبر ہو رہا ہے

میں ذکرِ نبیؐ کر رہا ہوں زمیں پر
مرا تذکرہ عرش پر ہو رہا ہے

مسلسل حجابِ نظر اٹھ رہے ہیں
مدینے کی جانب سفر ہو رہا ہے

قریب آ رہا ہے دیارِ مدینہ
مزاجِ جنوں معتبر ہو رہا ہے

حرا میں ہے قرآں کی ترسیل جاری
مکمل شعورِ بشر ہو رہا ہے

جو ذرّہ بھی ہے کوئے خیرالبشرؐ کا
چراغِ سرِ رہگزر ہو رہا ہے

درِ پاک پر آنسوؤں کی بدولت
مرا کام بھی چشمِ تر ہو رہا ہے

یہ اعجازؔ ہے سیرتِ مصطفیؐ کا
مسلسل دلوں میں اثر ہو رہا ہے