مستقل روشنی کا پتا مل گیا

مستقل روشنی کا پتا مل گیا
مصطفیؐ مل گئے تو خدا مل گیا

جس کو سرکارؐ کا نقشِ پا مل گیا
اُس کو فردوس کا راستا مل گیا

آدمیت کی کشتی کنارے لگی
ڈوبتے ڈوبتے ناخدا مل گیا

زندگی حسن سے اپنے واقف ہوئی
خلقِ سرکارؐ کا آئینہ مل گیا

دو جہاں کی اُسے نعمتیں ملی گئیں
قرب جس کو حضورؐ آپ کا مل گیا

جو بھی ہونا تھے سب فیصلے ہو گئے
آشنا سے جب اِک آشنا مل گیا

میں مدینے میں ہوں کچھ نہیں چاہیے
جو بھی میرے مقدر میں تھا مل گیا

حشر کی دھوپ سے دل پریشان تھا
سایۂ دامنِ مصطفیؐ مل گیا

سن لیا ہے شفیعِؐ اُمم آپ ہیں
ہر گنہ گار کو آسرا مل گیا

آج دنیا میں اعجازؔ اعجاز ہے
مدحتِ مصطفیؐ کا صلا مل گیا