لے کے سب اپنے اپنے سفینے چلو

لے کے سب اپنے اپنے سفینے چلو
گر اَماں چاہتے ہو مدینے چلو

تربیت گاہِ سرکارؐ میں دوستو
سیکھنے زندگی کے قرینے چلو

لے کے پیغام آئی ہے بادِ صبا
یاد تم کو کیا ہے نبیؐ نے چلو

رُوح کے چاک طیبہ میں سل جائیں گے
جامۂ زندگی اپنا سینے چلو

اسوۂ مصطفیؐ سے گریزاں ہو کیوں
سامنے ہیں ترقی کے زینے چلو

سوئے طیبہ سفر ہو گیا لازمی
راستا دے دیا آگہی نے چلو

منبعٔ نور سے نور مل جائے گا
لے کے احساس کے آبگینے چلو

آج رحمت ہے سرکارؐ کی جوش پر
خلد میں جام کوثر کا پینے چلو

زندگی منتظر ہے تمہاری وہاں
مرنے والو! مدینے میں جینے چلو

اور اشعار میں رنگ آجائے گا
نعت اعجازؔ پڑھنے مدینے چلو