آمدِ سرورِ عالمؐ کی بدولت جاگی

آمدِ سرورِ عالمؐ کی بدولت جاگی
وہ جو صدیوں سے تھی سوئی ہوئی قسمت جاگی

ذہن تبدیل ہوئے آپ کی سیرت کے طفیل
آگ نفرت کی بجھی دل میں محبت جاگی

آپؐ نے زندہ کیا مردہ ضمیروں کو حضورؐ
آپؐ کے دور میں اِنسان کی غیرت جاگی

آپؐ نے توڑ دی زنجیرِ غلامی آقاؐ
وہ جو آزاد تھی اِنسان کی فطرت جاگی

معتدل کر دیا سرکارؐ نے اِنساں کا مزاج
جاگی خواہش تو مگر حسبِ ضرورت جاگی

آپؐ کے ذکر نے بخشی وہ جِلا ذہنوں کو
نور آنکھوں کو ملا دل میں بصیرت جاگی

چھوڑ کر آپ کے دامانِ کرم کو آقاؐ
کیا قیامت ہے کہ جو قبلِ قیامت جاگی

خلقِ سرورؐ نے یہ اعجاز دکھایا اعجازؔ
آئینہ خانۂ احساس میں حیرت جاگی